حلالہ کیلئے عدت میں نکاح
سوال
زید نے اپنی بیوی کو غصہ کی حالت میں تین طلاق دیدی مگر معلوم ہوا کہ زوجہ زید اس وقت ماہواری سے تھی، بعدۂ زید نے مصلحۂ دورانِ عدت میں اپنے دوست سے برائے حلالہ نکاح کرادیا تا کہ ہندہ مجھ سے متنفر نہ ہو جائے، تو یہ نکاح ثانی درست ہوا یا نہیں؟ (۲) زید نے اپنے دوست خالد سے برائے حلالہ ہندہ کا نکاح کرا دیا، خالد نے نکاح کے بعد مباشرت بھی کی، تو یہ نکاح وغیرہ درست ہوا یا نہیں؟
جواب
حالت حیض میں دی ہوئی طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، اگر چہ ایسا کرنے سے شوہر گنہگار ہوتا ہے، اسی طرح تین طلاق ایک دم دینا بھی گناہ ہے، مگر وہ بھی واقع ہو جاتی ہے، اس لئے صورت مسئولہ میں طلاق مغلظہ ہوگئی، بغیر حلالہ کے اسکو رکھنے کی کوئی صورت نہیں ہے حلالہ کیلئے دوسرے شخص سے نکاح کرنے کے واسطے پہلی عدت کا گذر جانا ضروری ہے، عدت میں نکاح حرام ہے، وہ نکاح نہیں بلکہ وہ زنا ہوتا ہے: لا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔