مطلقہ ثلاثہ سے بغیر حلالہ کے نکاح
سوال
زید اپنی بیوی کو بایں الفاظ متعدد مجالس میں طلاق دیتا ہے، کہ اپنے مکان رہائش سے پردہ دار منکوحہ کو گھسیٹ کر دروازہ سے باہر کر کے یہ الفاظ ادا کرتا ہے کہ یہ میری بیوی ہے، اس کو شرع محمدی کی رو سے ایک طلاق اس کو شرع محمد کی رو سے دو طلاق اس کو شرع محمدی کی رو سے تین طلاق اور یہ الفاظ مجمع عام میں کہتا ہے، مگر اس وقت اس کی حالت عین غضبناک ہے، قبل اس کے کہ یہ الفاظ ادا کرتا ہے، اسٹامپ قیمت: ۵ روپیہ لیکر اس پر طلاق نامہ لکھ کر حاشیہ کے دو گواہ معتبر کے دستخط کرا کر یہ بات بعد ازاں اپنی عورت کے اظہار کرتا ہے کہ وہ طلاق…
جواب
بوقت ضرورت شدیدہ شرائط مخصوصہ کے ساتھ حالت مخصوصہ میں (کہ ان سب کی تفصیل اپنے محل میں موجود ہے) عمل کرنا تو بعد کی چیز ہے، اول تو یہ دیکھنا ہے کہ صورت مسئولہ میں شافعیہ کا یہ مذہب ہے بھی یا نہیں، شافعیہ کی معتبر کتاب شرح منہاج الطالبین میں ہے: وان قال انت طالق انت طالق انت طالق وتخلل فصل بين هذه الصيغ كان سكت بينها فوق سكتة التنفس ونحوها فثلاث فان قال اردت التاكيد لم يقبل…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔