الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح بشرط تحلیل واجرت وتوقیت ومتعه

سوال

(۱) زید مطلقہ ثلاثہ سے نکاح کرنے کیلئے حیلہ کر کے زوجہ مطلقہ کا نکاح عمرو سے روپیہ دے کر کراتا ہے، مگر اس میں دو شرط ہیں، دو روز ختم ہونے پر طلاق دینا اور وطی نہ کرنا چنانچہ عمر نے شرطین مذکورین کو پوری کی، اب دریافت یہ ہے کہ زید کا نکاح دوبارہ اسی عورت سے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ (۲) زید مطلقہ ثلاثہ سے پھر نکاح کی غرض سے اس کا نکاح عمرو سے کراتا ہے مطلقاً یعنی بلا تعیین مدت وبغیر شرط وطی کے لیکن اجرت برابر مقرر ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ شرعاً اس مطلقہ ثلاثہ سے زید کا دوبارہ نکاح کرنا درست ہے یا نہیں؟ (۳)

جواب

(۱) مطلقہ ثلاثہ کا زوج اول کیلئے حلال ہونا مشروط ہے، دو شرطوں کے ساتھ اول یہ کہ زوج ثانی سے وہ عورت نکاح ثانی کرے۔ اور بشرط تحلیل نکاح امام ابو یوسف کے نزدیک منعقد ہی نہیں ہوتا، اور زوج اول کیلئے اس نکاح سے مطلقہ حلال بھی نہیں ہوتی، اور امام محمد کے نزدیک بشرط تحلیل نکاح ہو جاتا ہے لیکن زوج اول کیلئے حلال نہیں ہوتی، اور امام ابو حنیفہ کے نزدیک بشرط تحلیل نکاح مکروہ تحریمی ہوتا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو