حلالہ میں طلاق کی شرط
سوال
ہمارے علاقہ میں ایک رواج سا ہو گیا ہے، کہ آدمی اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دیتا ہے پھر عدت گزارنے کے بعد اس عورت کا نکاح کسی ایسے شخص سے کر دیتے ہیں، جس سے یہ طے کر لیتے ہیں کہ آج تم نکاح کرو کل صبح سویرے طلاق دیدینا اور کچھ رقم دے کر اسے اس پر بھی راضی کر لیتے ہیں کہ نکاح تو کر لو مگر صحبت نہ کرنا، رقم کے لالچ میں وہ نکاح تو کر لیتا ہے، اور صحبت سے کلی طور پر پرہیز کرتا ہے، اور صبح اس کو طلاق دیدیتا ہے، پھر اس عورت کے میکے والے اس کا نکاح پہلے شوہر سے کر دیتے ہیں، کیا حلالہ کی یہ صورت درست ہے، کیا یہ عورت پہلے شوہر…
جواب
تین طلاق کے بعد دوسرے شخص سے اس شرط پر نکاح کرنا کہ وہ ایک رات کے بعد طلاق دیدے اور اس کیلئے کچھ روپے دینے کا وعدہ کر لینا مکروہ تحریمی ہے، (حرام کے قریب) ہے اور حدیث پاک میں اس فعل پر لعنت بھی ہے اور جب کہ دوسرا شخص طلاق دیدے تو وہ عورت تین طلاق دینے والے پہلے شوہر کے لئے حلال بھی نہیں ہوتی، بلکہ بدستور حرام رہتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔