پیسہ دے کر حلالہ کرانا
سوال
یہاں پر اکثر لوگ عورتوں کو تین طلاقیں دیدیتے ہیں، اور پھر کسی مرد کو پیسہ دے کر اس عورت سے نکاح کر دیتے ہیں وہ مرد طے شدہ معاہدہ کے تحت دو ایک روز کے بعد طلاق دیتا ہے، پھر عورت کی عدت گزرنے کے بعد خود اس سے نکاح کر لیتے ہیں، یہ نکاح ہوتا ہے، یا نہیں اور ایسا کرنا جائز ہے، یا نہیں؟ امید ہے مفصل جواب عنایت فرمائیں گے تا کہ یہاں کے مسلمانوں کو ہدایت حاصل ہو؟
جواب
اس شرط پر نکاح کرنا کہ دو ایک روز کے بعد طلاق دیدینا مکروہ تحریمی اور گناہ ہے، اگر چہ ایسے نکاح کے ذریعہ دخول کے بعد طلاق دیدینے سے عورت شوہر اول کیلئے حلال ہو جائیگی، جب کہ عدت گزار کر دوبارہ نکاح کیا ہو، کذا فی البحر الرائق ورد المحتار والہندیہ۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔