الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نیرودھ کے ذریعہ حلالہ / نکاح به نیت تحلیل

سوال

زید نے اپنی مطلقہ ہندہ سے بعد انقضاء عدت یوں کہا کہ اگر تو کسی سے نکاح کرے اور وہ تجھے طلاق دیدے تو میں پھر تجھ سے عقد کروں گا اور اگر تو اس کے پاس بخوشی رہنا چاہے تو بھی مجھے منظور ہے اور میں ہر دو حال میں تیرے نکاح میں امداد دوں گا کیونکہ تیری بے بسی پر رحم آتا ہے چنانچہ حسب وعدہ اس نے ہندہ کے نکاح میں مدد کی لیکن ہندہ نے شوہر ثانی سے اس شرط سے نکاح کیا کہ تیری زوجیت سے خارج ہونے کا مجھے اختیار ہوگا یعنی جب چاہوں گی اپنے اوپر طلاق عائد کرلوں گی، چنانچہ نکاح کے وقت شوہر ثانی نے یہ شرط منظور بھی کی اب ہندہ نے عقد…

جواب

اگر شوہر ثانی سے ہمبستری کے بعد ہندہ نے حسب شرط اپنے اوپر طلاق دی ہے تو شوہر اول سے اس کا نکاح درست ہے بغیر ہمبستری یہ سب کچھ کیا ہے تو صحیح نہیں۔ بشرطیکہ شوہر اول نے تین طلاقیں دی ہوں! اگر تین طلاق سے کم دی تھیں تو بہر صورت صحیح ہو گیا اور یہ شرط کہ تیری زوجیت سے خارج ہونے کا اختیار ہوگا۔ صراحۂ شرط تحلیل نہیں اگر صراحة شرط تحلیل کر لی جاوے تو یہ مکروہ تحریمی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو