حلالہ میں مباشرت کا اقرار پھر انکار
سوال
ہمارے لڑکے معارف حسین نے اپنی بیوی کو طلاق مغلظہ دیدی لیکن پھر رجوع کرنا چاہتا ہے۔ تو مولوی صاحب سے پوچھ کر عدت پوری کر کے ایک عاقل بالغ لڑکے ابراہیم سے نکاح کرادیا۔ عقد کے بعد اس کے ساتھ ایک کمرہ میں رات گزاری، سویرے غسل کیا پھر اس کو طلاق دیدی اور چند عالموں کے سامنے اقرار کیا کہ میں نے اس کے ساتھ مباشرت کی ہے جس کے گواہ موجود ہیں۔ پھر عدت پوری ہونے کے بعد معارف حسین نے نکاح کے لئے آدمیوں کو جمع کیا، اس وقت ابراہیم (محلل) نے مسجد میں چند عالموں کے سامنے بیان کیا کہ میں نے اس کے ساتھ مباشرت نہیں کی۔
جواب
ابراہیم نے رات گزارنے کے بعد جو ہمبستری کا اقرار کر لیا تھا تو وہی اقرار معتبر ہے۔ اس کے بعد جب اس نے انکار کیا تو وہ انکار معتبر نہیں۔ آپ کے لڑکے کا نکاح دوبارہ صحیح ہو گیا، اس کو مباشرت کا حق حاصل ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔