حلالہ کے بعد میاں بیوی کا نکاح جب کہ حلالہ کے گواہ منکر ہوں
سوال
زید مع اپنے بیوی بچوں کے گذر اوقات کے لئے پردیس گیا ہوا تھا، وہیں اپنی بیوی کے ساتھ لڑ کر اپنی بیوی کو طلاق دیدی، بعد عدت کے وہیں پردیس میں ہی حلالہ کے لئے پوشیدہ طریقہ سے دو گواہ ایک نکاح پڑھانے والا بلا کر عمر سے نکاح پڑھوا دیا۔ عمر نے استعمال کر کے طلاق دیدی۔ اب زید مع اپنے بچوں اور اس عورت کے اپنے وطن آ گئے۔ اب زید اور یہ عورت بکر سے کہتے ہیں کہ تم ہمارا نکاح پوشیدہ طور سے پڑھوا دو۔ زید پابند وصلوۃ وصوم نہیں ہے اور قسم کھاتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کا حلالہ کرایا ہے اور تو میرا نکاح پڑھا دے۔
جواب
سوچنا چاہئے کہ زید اور اس کی مطلقہ بیوی کو اگر حرام کاری ہی مطلوب ہوتی تو دوبارہ نکاح پڑھوانے کی کیا ضرورت تھی، جب کہ طلاق پردیس میں دی تھی بغیر نکاح کے بھی ساتھ رہ سکتے تھے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ دو گواہوں کے سامنے زید اور بیوی دونوں خود ہی نکاح کا ایجاب وقبول کرلیں، مثلاً بیوی کہے کہ میں نے اپنا نکاح اتنے مہر پر آپ سے کیا۔ شوہر کہے کہ میں نے آپ کو اپنے نکاح میں قبول کیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔