شوہر کا طلاق کے بعد انکار اور گواہ کا گواہی سے انکار
سوال
کسومہ کا نکاح محمد ابراہیم کے ساتھ ہوا، چند روز کے بعد محمد ابراہیم کسومہ کو تکلیف دینے لگا، کسومہ اپنے میکہ چلی آئی، دو تین سال تک کسی طرح گزر گیا پھر کسومہ کی والدہ نے محمد ابراہیم سے کہا کہ تم طلاق دے دو، اور اپنا زیور لے لو، محمد ابراہیم نے کہا ٹھیک ہے، زیور دیدو میں تو طلاق دیدوں گا، چنانچہ زیور اس کو دیدیا اور اس نے طلاق دیدی، جس کے گواہ محمد یونس اور بدھو ہیں، اور دو ہندو بھی موجود تھے، مگر اب محمد ابراہیم انکار کرتا ہے کہ میں نے طلاق نہیں دی، لہذا دریافت کرتا ہوں کہ محمد یونس کی حلفیہ گواہی سے طلاق ثابت…
جواب
اگر کسومہ کی طرف سے شرعی پنجایت میں طلاق کا مقدمہ پیش ہے، اور گواہ صرف محمد یونس باقی رہ گیا ہے، بدھو گواہی نہیں دیتا، تو کسومہ کا دعویٰ ایک گواہ کی گواہی سے ثابت مان کر پنجایت اس کے حق میں فیصلہ نہیں کریگی۔ ایک گواہ کو قسم دے کر دو گواہ کے قائم مقام نہیں بنایا جائیگا، ہندو کی گواہی اور کسومہ کی والدہ کی گواہی اس صورت میں مفید نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔