الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اقرار طلاق کے بعد گواہ کی ضرورت نہیں

سوال

زید نے اپنی بیوی ہندہ کو کسی وقت یہ کہہ دیا کہ تجھ کو طلاق ہے تو اپنے باپ کے یہاں چلی جا، ہندہ اپنے باپ کے پاس چلی گئی لیکن اس کے طلاق دینے کی کوئی معتبر اور ثقہ شہادت نہیں ہے، اس میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ ہندہ کو اپنے باپ کے یہاں ایک مدت گذر گئی، زید اس کو نہیں لاتا ہے، نہ لانے کی وجہ سے ہندہ کے ورثاء نے زید کو ایک مجلس میں جس میں قریب قریب دوسو آدمی تھے، مارنے کے لئے دھمکی دی زید نے اس مجلس میں لوگوں کے سامنے یہ کہدیا کہ میں نے اس کو بہت دن ہوئے چھوڑ دیا، اب اس میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟

جواب

جب زید نے اپنی بی بی ہندہ کو خطاب کر کے طلاق دیدی، اور زید اس کا اقرار کرتا ہے، تو شرعاً طلاق واقع ہو گئی کسی اور شہادت کی ضرورت نہیں پھر جب مجلس میں بہت سے آدمیوں کے سامنے کہا کہ میں نے اس کو بہت دن ہوئے چھوڑ دیا تو پھر وہ سب مجلس کے لوگ گواہ بھی ہو گئے اگر اول مرتبہ طلاق دینے کے بعد عدت (تین حیض)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو