اقرار طلاق کے بعد انکار
سوال
زید نے اپنی بیوی کو طلاق دی جو لوگ وقوع واقعہ کے وقت موجود تھے، ان میں سے دو عورتیں اور ایک مرد نے شرعی گواہی دی کہ زید نے چار مرتبہ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، اور اثناء واقعہ میں اور ایک مرد آیا تو زید کو یہ کہتے ہوئے پایا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی، اس مرد نے اس کو کہا کہ طلاق کا لفظ کوئی معمولی ہے، ایسا لفظ نہ کہو تو زید نے پھر کہا کہ تم کیا سمجھتے ہو ہاں میں نے اس کو طلاق دے دی، ایک دوسرے آدمی کے پاس زید نے اقرار کیا، کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی ہیں، اب دین مہر ادا کرنا ہے کس طرح ادا کروں…
جواب
ایک مرد اور دو عورتیں جب کہ مقبول الشہادۃ گواہی دیں کہ ہمارے سامنے زید نے چار مرتبہ کہا کہ میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو شرعاً طلاق مغلظہ واقع ہوگئی، اور شوہر کے انکار سے کچھ نہیں ہوتا، پھر زید کا دوسرے شخص کے سامنے اقرار کرنا کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دیدی قوی دلیل ہے اس پر کہ زید نے وعدہ طلاق پر اکتفاء نہیں کیا، بلکہ بالفعل طلاق مغلظہ دی ہے، اگر عورت نے خود ایک مرتبہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔