شوہر طلاق کا منکر اور بیوی مدعیہ ہے تو شرعی شہادت کی ضرورت
سوال
ایک عورت بالغہ ج کے پاس گود میں ایک لڑکی نابالغہ ہے وہ کہتی ہے کہ میرے خاوند نے مجھے طلاق زبانی دیدی ہے وہ اپنے والدین کے گھر ہے، اس کے ورثاء اس کی تکمیل کے واسطے قومی پنچایت میں پہنچے ایک حافظ امام مسجد اور ایک عورت یہ کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے مرد نے یہ کہا کہ میں نے تین دفعہ طلاق دیا، بلکہ امام مسجد یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ آدمی اپنی چار پائی پر پڑا تھا جب میں پاس آیا تو وہ آدمی بیٹھ گیا تھا ایک دوسری عورت اور دوسرا آدمی جو اس موقع پر اپنی موجودگی بتلاتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں، کہ اس وقت اس آدمی نے یہ کہا تھا کہ ایسی…
جواب
صورت مسئولہ میں مرد طلاق کا منکر ہے، اور عورت مدعیہ ہے، لہذا شرعی ثبوت کی ضرورت ہے، یعنی جب تک کم از کم دو عادل یا ایک عادل مرد اور دو عادل عورت گواہی نہ دیں، اس وقت تک قضاء طلاق کا ثبوت نہ ہوگا، امام مسجد اور ایک عورت تو تین دفعہ طلاق کی گواہی دیتے ہیں، اگر چہ وہ بھی صرف یہ الفاظ مرد کے نقل کرتے ہیں کہ میں تین دفعہ طلاق دیدیا)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔