اقرار زوج کے بعد گواہوں کی ضرورت نہیں
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دیا، یہ سن کر گاؤں کے پانچ آدمی وہاں گئے اور شوہر سے پوچھا کہ تم اپنی بیوی کو رکھو گے یا چھوڑو گے، اگر تم کو بیوی رکھنا ہے، تو ایک عالم سے فیصلہ لینا پڑے گا، اس وقت شوہر نے کہا کہ اگر حلالہ کی ضرورت پڑے تو نہیں لوں گا، مہر کی بابت روپیہ یا ایک بیگہ زمین دے کر رخصت کر دوں گا، اس کے بعد عالم صاحب نے فیصلہ کے لئے مجلس منعقد کی اور شوہر سے دریافت کیا گیا تو اس نے اپنے خیالات اس طرح ظاہر کئے کہ میرا اپنی بیوی سے کبھی کبھی جھگڑا ہوتا رہتا ہے، آج میں نے غصہ میں بے قابو ہوکر اپنی بیوی کو کہ…
جواب
جب کہ شوہر کا بیان خود تین طلاق کا ہے، جس میں کوئی شرط نہیں کی گئی ہے، گواہ کی ضرورت نہیں، طلاق مغلظہ واقع ہو گئی اب بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح بھی درست نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔