الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ورثاء شوہر کا دعویٰ طلاق

سوال

ایک شخص کے پاس اس کی عورت عرصہ دراز تک رہتی رہی بیماری میں اس کی خدمت بھی کی اس کی خدمت گذاری اور ازدواجی تعلقات کے گواہ بھی موجود ہیں اور اس کی خدمت کا اعتراف کرتے ہیں، مرد نے اپنے مرض میں اس کے جملہ حقوق کو تسلیم کر کے بھائیوں سے سلوک کرنے کی وصیت بھی کی لیکن بعد وفات شوہر اس کے وارث عورت کا ترکہ ودین مہر غصب کرنے کے لئے کہتے ہیں کہ اس کی عورت کو تقریباً ۸ سال ہوئے شوہر طلاق دے چکا ہے، ایسی صورت میں ورثاء کا قول بطلاق قابل سماعت ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں ورثاء شوہر نے آٹھ سال تک اگر طلاق کی شہادت کو چھپایا ہے اور باوجود طلب کے شہادت نہیں دی، تو وہ اس کتمان اور تاخیر بلا عذر کی وجہ سے فاسق ہو گئے: كتمان الشهادة كبيرة ويحرم التاخير بعد الطلب اشباه ص ۲۲۹ / شاهد الحسبة اذا اخر شهادته لغير عذر لا يقبل لفسقه كما في القنية اشباه ص ۳۱۳ / نیز اس کی شہادت قابل قبول نہیں نیز مسلمان کے فعل کو حتی الوسع صحیح وحلال محل پر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو