جھوٹے گواہوں سے طلاق کا ثبوت
سوال
اگر کسی عورت کو اس کا شوہر طلاق نہ دے اور عورت جھوٹ موٹ، طلاق کے ہونے کا دعویٰ عدالت میں دائر کرے اور جھوٹے جھوٹے گواہان کو شہادت میں پیش کرے اور عدالت اس پر وقوع طلاق کا فیصلہ دیدے اور حقیقت یہ ہے کہ طلاق نہیں ہوئی، تو عدالت کے فیصلہ کے بعد اس عورت کا نکاح ثانی کرنا عند الشرع وعند اللہ صحیح ہوگا، یا نہیں، اور جب کہ عورت کو طلاق کے نہ ہونے کا قطعی علم ہے تو عدالت کے اس فرضی فیصلہ کے بعد عورت اپنا نکاح ثانی کے بعد حقوق زوجیت ادا کرنے پر فعل حرام کی مرتکب ہوگی یا نہیں مفصل جواب دے کر عنداللہ ماجور ہوں۔
جواب
امام ابو حنیفہ کا مذہب یہی ہے کہ قضاء ظاہراً وباطناً نافذ ہوتی ہے، جس کا تقاضہ یہی ہے کہ صورت مسئولہ میں نکاح ثانی بعد عدت شرعاً درست ہو، اور حقوق زوجیت کو حرام قرار نہ دیا جائے، (قاضی کا مسلم ہونا ضروری ہے، پس عدالت غیر مسلم کا فیصلہ ایسے مسائل میں نافذ نہیں)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔