الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق کے گواہوں میں اختلاف

سوال

زید کا واقعہ ہے، جس پر علمائے کرام کا فتویٰ طلاق مغلظہ کا ہو چکا ہے، اس کے بعد ہندہ کے والد چند اشخاص کے ساتھ زید کے گھر پہنچے، زید باہر جا چکا تھا، زید کے والد سے ہندہ کے والد نے رخصتی کے بارے میں کہا اور کہا کہ فتاوی آچکا ہے، تو ہم ہندہ کو رکھیں گے، اس پر ہندہ کے والد نے کہا کہ فتوی آگیا ہے، اس میں کوئی گنجائش کا موقع نہیں ہے، اس پر زید کا والد زید کے یہاں چند اشخاص کے ساتھ پہنچا، زید موجود تھا، زید سے جب دریافت کیا گیا تو زید نے کہا کہ ہم کو مطلق یاد نہیں ہے ایک لڑکا عتیق کے کہنے پر کہ تم نے تین طلاق دیدیا ہے…

جواب

طلاق مغلظہ پر اگر شرعی شہادت موجود نہیں نہ شوہر کو اقرار ہے، نہ بیوی نے خود سنا ہے، تو طلاق مغلظہ کا حکم نہیں کیا جائے گا، بلکہ اندرون عدت رجعت کا اختیار ہوگا۔ اگر عدت گذر چکی ہے تو طرفین کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کی اجازت ہوگی حلالہ کی ضرورت نہیں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو