الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کلما کی قسم اور اس کا حل

سوال

زید نے اپنی زبان سے صرف یہ ادا کیا ہے کہ میں نے کلما کی قسم کھائی ہے اور اس کی نیت میں یہ ہے میں جب جب کسی عورت سے نکاح کروں گا، تو اس کو طلاق ہے، اور قسم کو زید نے اللہ اور اس کی صفات کے ساتھ متعلق نہیں کیا ہے، تو قسم واقع ہوگی یا نہیں؟ نوٹ: قسم واقع ہو یا نہ واقع ہو کلما کی قسم کو توڑنے کی کوئی صورت ہو تو لکھدیں، اگر نہ ہو تو نکاح کرنے کی کوئی صورت ہو تو ضرور لکھیں؟

جواب

قسم کا مدار الفاظ پر ہوتا ہے، نہ کہ اغراض پر جیسا کہ فقہ میں تصریح ہے” مبنی الایمان علی الالفاظ دون الاغراض“اور متن در مختار میں یہ الفاظ ہیں ”الايمان مبنية على الا لفاظ لا على الاغراض “ لہذا کلما کی قسم منعقد ہی نہیں ہوئی، کیونکہ غیر اللہ کی قسم کھانے سے قسم منعقد نہیں ہوتی،” وحاصله ان اليمين لغيره تعالى تارةً يحصل بها الوثيقة اى استيثاق الخصم بصدق الحالف كالتعليق بالطلاق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو