الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

(جبراً کلما کی قسم لینا) نابالغ کی قسم قسم کا کفارہ

سوال

زید ایک شخص بہت ہی غصہ والا ہے، اس نے ایک لڑکے سے جس کی عمر ۱۳ یا ۱۴ یا ۱۵ سال ہے اپنے غصہ کا رعب ڈالکر حلف اٹھوایا کہ اگر کوئی بات میں آپ سے پوشیدہ رکھوں تو میری بیوی پر جب میں شادی کروں طلاق ہے، پھر جتنی مرتبہ میں شادی کروں اتنی ہی مرتبہ طلاق پڑے، اگر چہ اس لڑکے کی ابھی شادی تو کہاں منگنی کی بات بھی کہیں طے نہیں ہوئی، اور یہ حلف چند ایسے امور کے متعلق اٹھوایا ہے جن کے ظاہر ہونے میں زید اور اس کی بیوی اور تمام گھر میں فتنہ وفساد برپا ہونے کا اندیشہ ہے، لہذا دریافت طلب امور یہ ہیں: (۱)

جواب

(۱) یہ ظلم ہے (۲) اگر لڑکا نا بالغ ہے تو اسکا حلف شرعاً غیر معتبر ہے اور اگر بالغ ہے تو اس کا حلف معتبر ہے، اگر اس کو احتلام ہوتا ہے، یا وہ پورے پندرہ سال کا ہے تو بالغ ہے۔ (۴) اگر بوقت حلف لڑکا بالغ ہے تو اسکے خلاف کرنے سے طلاق پڑ جاوے گی۔ (۵) اگر حلف کرے گا اور وہ بالغ ہے تو پابندی لازم ہوگی، پھر مصلحت اس کے خلاف سمجھے تو قسم توڑ کر کفارہ ادا کرے۔ (۶)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو