الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کلما کی قسم

سوال

زید نے جھوٹی قسم کھائی اور پھر یہ کہا کہ اگر میں اس قسم میں جھوٹا ہوں تو جب جب میں نکاح کروں میری بیوی کو تین طلاق، اب اگر زید نکاح کرنا چاہتا ہے، تو اس کے لئے کوئی گنجائش شرعی ہے یا نہیں؟ بعض علماء نکاح فضولی سے اس کے لئے نکاح صحیح ہو جانے کو کہتے ہیں، اور بعض انکار کرتے ہیں، اور شریعت مطہرہ کا اس میں جو بھی حکم ہو جس سے نکاح کے بعد طلاق واقع نہ ہو اس کو بیان فرمادیں، اگر نکاح فضولی سے اس کا نکاح صحیح ہو جائے، تو ایسا طریقہ تفصیل سے بیان فرمائیں، جس میں شرعی قباحت نہ ہو؟

جواب

اگر کسی شخص نے اس طرح کہا کہ اگر میں فلاں کام کروں تو جب جب میں نکاح کروں میری بیوی پر تین طلاق، تو اس کے لئے اس قسم سے بچنے کے لئے تدبیر یہ ہے کہ کوئی شخص جو کہ حالات سے واقف ہو وہ جس عورت سے اس کا نکاح مناسب سمجھے بحیثیت فضولی نکاح کر دے، مثلا اس عورت سے کہے میں نے تمہارا نکاح اتنے مہر پر فلاں شخص سے کر دیا وہ عورت جواب میں کہے کہ میں نے اس کو قبول کیا، اور ایجاب وقبول کم از…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو