کلما کی قسم
سوال
زید نے کلما کی قسم کھائی جس کی صورت یہ ہے کہ وہ شخص کہتا ہے کہ کلما کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ فلاں کام میں نے نہیں کیا، حالانکہ اس نے وہ کام کیا، اور یہ قسم ایسے شخص نے کھائی جو کلما کے معنی اور اس کا مطلب اور اس کا اثر جانتا تھا، تو کیا صرف اتنا لفظ کہدینے سے قسم منعقد ہو جائے گی، یا پوری عبارت کہنے سے منعقد ہوتی ہے، اور اس قسم میں حانث ہونے پر کوئی حیلہ یا کفارہ ہے، جو بیوی کو طلاق نہ پڑے، مدلل مفصل مع حوالہ کتب جواب مرحمت فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں؟
جواب
صرف اتنا کہنے سے قسم منعقد نہیں ہوئی ہے اس لئے حانث ہونے اور کفارہ ادا کرنے یا حیلہ تلاش کرنے کا اس پر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، البتہ جھوٹ بولنا سخت گناہ ہے اس سے اجتناب لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔