” اب اگر روٹی پکائے تو طلاق کا حکم
سوال
بکر نے اپنی زوجہ کو رمضان میں روٹی پکانے کو کہا چونکہ وہ روزہ دار نہیں تھا، اس پر زوجہ نے کہا کہ میں ہرگز روٹی نہیں پکاؤنگی، اس جملہ کوسن کر شوہر نے کہا اب اگر روٹی پکا ئیگی تو تجھ پر تینوں طلاق۔ مذکورہ صورت میں اگر زوجہ روٹی پکائے گی تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
جواب
اگر ہندہ نے اس وقت روٹی نہیں بنائی، بلکہ شام کو روٹی بنائی افطار کے وقت تو اس سے بکر کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، نکاح بدستور قائم ہے، اور ہمیشہ اس کو روٹی پکا کر کھلانا بھی درست ہے، کیونکہ شوہر نے یہ کہا تھا کہ اب اگر تو روٹی بنائے گی، تو تجھ پر تینوں طلاق، اس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت دن کے کھانے کے لئے وقت افطار سے پہلے روٹی بنائے گی، تو تجھے طلاق ہے، اب روٹی شام کو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔