تعلیق طلاق بالمحال
سوال
زید نے اپنی منکوحہ ہندہ کوکسی ناچاقی ودل شکنی کی وجہ سے بحالت غصہ کہا کہ جو چیز تمہیں امانت دیا ہوں ہمیں دے دو اس کی شدید ضرورت ہے، اگر نہیں دوگی تو میں تمہاری حالت کو خراب کر دوں گا، اس کا ہندہ نے کچھ جواب نہیں دیا، اور بچی کو گود میں لے کر کواڑ کے پاس کھڑی رہی، اسی اثناء میں زید نے مذکورہ بالا جملہ بار بار ادا کیا، آخر الامر جب ہندہ نے زید کو امانت کی چیز کے متعلق ہاں اور نہیں، کچھ نہیں کہا، تو زید نے برافروختہ ہو کر کہا کہ اے ہندہ امانت کی چیز اگر تم نے آج نہیں دی تو تم پر تین طلاق، مگر ہندہ اس پر خائف نہیں…
جواب
ہندہ کے بھائی نے مولوی صاحب کے سامنے نا تمام سوال پیش کیا، اس کا جواب وہی ہے، جو مولوی صاحب نے دیا، اگر سوال پورا پیش کیا جاتا جیسا کہ تحریر میں ہے، تو وہ جواب نہ ہوتا، صورت واقعہ کا جواب یہ ہے کہ زید نے ایسی شرط پر طلاق کو معلق کیا ہے، جس کا پورا کرنا ممکن نہیں، لہذا یہ تعلیق ہی صحیح نہیں، پس اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور قائم ہے، ایسی نظیر بحر شامی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔