طلاق بالشرط
سوال
زید اپنی والدہ کے کہنے سے والدین کے مکان کی مرمت کرار ہا تھا، اسی اثناء میں کسی بات پر اسکی ماں اسی مرمت کے متعلق خفا ہو گئی اس پر اس نے غصہ میں یوں کہا کہ اگر اب میں مرمت کے کام پر کھڑا ہوں تو میری بیوی کو طلاق ہے، طلاق ہے، طلاق ہے، اور اسکے کہنے سے اس کی نیت ماں پر ایک طرح سے تنبیہ تھی نہ مطلق قلبی نیت طلاق کی تھی نہ اس نے اپنی اہلیہ کی طرف مخاطب ہو کر یہ الفاظ کہے نہ اس کی بیوی اس وقت وہاں موجود تھی نہ اس کو اپنی منکوحہ سے کوئی رنجش تھی اور اس کی بیوی کو ےر ماہ کا حمل بھی تھا اس کہنے کے بعد جب اس بات کو دو ہفتے…
جواب
وقوع طلاق کیلئے زوجہ کا حاضر ہونا یا اس کو خطاب کرنا یا اس کی طرف اشارہ کرنا ضروری نہیں، بلکہ الفاظ مذکورہ فی السوال سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، جیسا کہ اشارہ اور خطاب سے واقع ہو جاتی ہے، کیوں اصل مقصود زوجہ کی طرف طلاق کو مضاف کرنا ہے وہ ان سب صورتوں میں اگر اب میں مرمت کے کام پر کھڑا ہوں تو میری بیوی پر طلاق ہے، طلاق ہے طلاق ہے، کے معنی عرفا یہ سمجھے جاتے ہیں، کہ اگر میں اب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔