معاہدہ کی خلاف ورزی کرنے پر طلاق
سوال
میں نے رستمبر کو تمام پنچایت کے سامنے اقرار کرتا ہوں کہ میں اپنی بیوی سعیدہ خاتون کو حتی الامکان آرام سے رکھوں گا، اور کسی قسم کی تکلیف اس کو نہیں پہنچنے دوں گا، اگر میری بیوی نے کے استمبر ۱۹۶۸ء سے پوری دوسال کی مدت کے اندر قرآن اٹھا کر حلفاً اقرار کیا کہ مجھے بابت ضروریات زندگی یا جسمانی یا روحانی از روئے شریعت کسی قسم کی تکلیف ہوئی تو یہ اقرار نامہ بلاکسی جبرواکراہ برضاء بخوشی طلاق نامہ سمجھا جائے گا، اور طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور صورتِ مذکورہ میں میری بیوی سعیدہ خاتون کی طرف سے مہر معاف سمجھا جائے گا، اور…
جواب
صورت مسئولہ میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔