طلاق معلق میں تعلیق کی خبر سے پہلے اس کا ارتکاب / محمد یونس نے اپنے خسر کو خط لکھا جس کی نقل درج ذیل ہے۔
سوال
احوال ضروری ہیں کہ آپ کی بیٹی آپ کے گھر میں کھاتی ہے، آپ کی بیٹی جو کچھ بھی ہے، وہ ہماری ہی بن کر رہے گی لیکن اگر وہ ہمارے حکم کے خلاف کہیں بھی قدم رکھے تو اس کا انجام بہت برا ہوگا، اس لئے آپ کو خبر دار کر رہے ہیں، کہ بعد میں آپ یہ نہ کہیں کہ پہلے کیوں نہ کہا، خیر اس خط کو دیکھتے ہی آپ اپنی بیٹی سے کہہ دیں گے، اس پر بھی وہ نہیں مانے گی، تو اس کے ذمہ دار آپ اور آپ کی بیٹی ہوگی، اور رو پیلی بستی نہیں جائے گی، اگر اپنی من مانی سے جانا چاہتی ہے، یا آپ لوگ زور دیجئے گا اگر رو پیلی بستی جائے گی، تو طلاق ہو جائے گی،…
جواب
اس خط میں شوہر نے بیوی کے روپیلی بستی جانے پر طلاق کو معلق کیا ہے، اور مرسل الیہ کو اول اس کی اطلاع کا ذمہ دار بنایا ہے کہ وہ بیوی کو خبر دار کر دے، مگر خط مکتوب الیہ کو ملنے اور بیوی کو خبر ہونے سے پہلے ہی وہ روبیلی بستی جا چکی تھی، اس لئے کوئی طلاق نہیں ہوئی المکتوب الیہ کے خبر دار کرنے پر جائے گی تو طلاق ہو جائے گی، اگر یہ کہا جائے کہ خط میں خبردار کرنے کا ذکر تو ضرور ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔