نقل عهد نامه / مکالمہ جس میں طلاق مذکور نہیں
سوال
زید کی بیوی نے زید کو نماز پڑھنے کیلئے کہا تو زید نے کہا کہ میں کل سے نماز پڑھوں گا، اور اگر کل سے نماز نہیں پڑھوں گا تو کام بالکل چھوٹ جائے گا، تو پھر زید کی بیوی نے کہا کہ جب کام چھوٹ جائے گا تو آپ اپنے گھر اور میں اپنے گھر تو اس کے بعد زید نے پھر کہا کہ میں نے ایک وقت نماز پڑھنے کو کہا ہے ایک وقت پڑھوں گا تو جب کل آیا تو زید نے نہ فجر پڑھی نہ ظہر اور نہ ہی عصر ومغرب صرف عشاء کی نماز پڑھی تھی۔
جواب
دونوں قسم کی گفتگو کے باوجود طلاق نہیں ہوئی نکاح بد رستور قائم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔