الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرط کے خلاف کرنے پر طلاق

سوال

مسماۃ زیب النساء کا نکاح انوار الحق کے ساتھ ہوا لیکن شوہر کی بد چلنی وبد خلقی کی بنا پر تعلقات کشیدہ ہو گئے، بعض حضرات نے صلح کرادی اور ایک اسٹامپ پر یہ بھی لکھوا دیا کہ اگر میں ان شرطوں کی خلاف ورزی کروں تو یہ عدم پابندی میری طرف سے زیب النساء کے لئے طلاق متصور ہو، سوال یہ ہے کہ اقرار نامہ کی شرائط کی عدم پابندی ہی حسب تحریر طلاق سمجھی جائیگی یا انوار الحق سے طلاق لینی پڑیگی اور اگر عدم پابندی سے طلاق بائن پڑ گئی تو عورت اپنا عقدِ ثانی کر سکتی ہے؟

جواب

یہ اقرار نامہ در حقیقت طلاق کو شرائط کی عدم پابندی پر معلق کرنا ہے، لہذا عدم پابندی شرائط پر حسب اقرار نامه طلاق واقع ہو جائیگی، مزید مطالبہ کی حاجت نہیں ہوگی جب کہ صریح طلاق کو کسی اور صفت تشدید وغیرہ سے مؤکد نہیں کیا تو طلاق رجعی ہوگی، اور اسی وقت سے عدت لازم ہوگی اور شوہر کو اختتام عدت سے پہلے پہلے حق رجعت حاصل ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو