طلاق کو نکاح پر معلق کرنا
سوال
مضطر اجنبی نے مسمی غزالہ غیر منکوحہ اجنبیہ کے متعلق کہا کہ اگر میں اس سے نکاح کروں یا میرا اس سے نکاح ہو تو اسکو طلاق مغلظہ ہے، مضطر کو یاد نہیں کہ اسنے ان دونوں جملوں میں سے کونسا جملہ کہا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ کونسے قول کو ترجیح دی جائے گی، اور کوئی شکل غزالہ سے نکاح کی ہو سکتی ہے یا نہیں؟ شرط یہ ہے کہ غزالہ کی شادی کسی غیر سے نہ ہو۔
جواب
جب آدمی ایسی قسم کھاتا ہے تو اس کا مقصد اس عورت سے انتہائی بُعد اختیار کرنا ہوتا ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ کسی طرح بھی وہ عورت اسکے نکاح میں نہ آسکے اور اس سے پوری دوری رہے، مگر جملہ (۱) بولنے کی صورت میں نکاح کرنے کی نسبت اپنی طرف کی گئی ہو، تو فقہاء نکاح فضولی کی شکل میں وقوع طلاق کا حکم نہیں دیتے، جب کہ حالف نے اجازت بالفعل دی ہو اور یہ در حقیقت ایک مخرج اور حیلہ ہے، لیکن جب…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔