الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق کی شرط پر نکاح

سوال

زید کو بعد نکاح قبل از رخصت شرط پیش کی گئی کہ اگر اس نے لڑکی نکاح میں رکھتے ہوئے یا طلاق دے کر دوسرا عقد کیا تو اس عقد ثانی والی منکوحہ پر طلاق مغلظہ واقع ہو جائیگی، زید نے محض اعتماد اور بھروسہ سے کام لیتے ہوئے بغیر نظر آئے اس پر دستخط کر دیئے، زید کا حلفیہ بیان ہے کہ اس شرط مذکورہ سے دستخط کرتے وقت بالکل لاعلم تھا، جب بعد میں زید کو اس کا علم ہوا تو اس کو بہت ہی غصہ آیا اور اس نے اسی وقت انکار بھی کر دیا، اور کہا کہ میں ایسی کسی بھی شرط سے بالکل لا علم تھا، یہ سراسر میرے ساتھ دھوکہ کیا گیا ہے، اور وہ کہتا ہے کہ…

جواب

اگر اس نے اس تحریر کو نہیں پڑھا، نہ اس کو پڑھوا کر سنا، نہ اس کو بتایا گیا کہ اس میں یہ شرط لکھی ہے تو وہ تحریر بالکل بے کار ہے، اس کی پابندی لازم نہیں، دوسرا نکاح کرنے سے اس تحریر کی بناء پر کوئی طلاق نہیں ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو