طلاق معلق بالنكاح
سوال
زید تعلیم حاصل کرنے کیلئے اپنے ملک سے دوسرے ملک کی جانب چلا اور چلتے وقت یہ جملہ بطور شرط کہا کہ اگر میں بغیر پڑھے آکر کے شادی کروں تو میری عورت کو طلاق ہے، اب حال یہ ہے کہ تعلیم ہنوز پایہ تکمیل کو نہیں پہنچی اور والدین زید کو شادی کیلئے سخت تقاضہ اور مجبور کر رہے ہیں، کہ آکر کے شادی کرو، زید اب والدین کے خوف سے انکار بھی نہیں کر سکتا، اب اس صورت میں زید کی شادی کرنے کی جواز کی کوئی صورت ہو سکتی ہے یا کہ نہیں کہ والدین بھی ناراض نہ ہوں اور طلاق بھی واقع نہ ہو۔
جواب
جواز کی صورت یہ ہے کہ کوئی فضولی (والدین وغیرہ) اس کا نکاح کر دے اور یہ اس کی قولاً اجازت نہ دے بلکہ فعلاً اجازت دیدے مثلاً عورت کے پاس مہر (معجل) بھیج دے: فی لا يتزوج فزوجه فضولى فاجاز بالقول حنث وبالفعل اى لو اجاز بالفعل كاعطاء المهر لا يحنث هو المختار وعليه الفتوى كما فى الخانية لان العقود تختص بالاقوال فلا يكون فعله عقداً وانما يكون رضى وشرط الحنث العقد لا الرضى اه مجمع…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔