نکاح میں کی گئی شرط کے خلاف کرنے سے وقوع طلاق اور قسم کا کفارہ
سوال
زید نے عمر کی لڑکی سے درج ذیل شرائط پر نکاح کیا ہے، (۱) زید نے عمر سے بوقت نکاح بر سر مجلس قرآن مجید ہاتھ میں لے کر قسم کھائی اور کہا کہ میری اہلیہ کے وقت بلوغ تک میں تمہارے گھر میں ہی رہوں گا، اور اس شرط پر عدم عمل کی صورت میں میری بیوی پر طلاق ہے، اور میری بیوی مجھ پر بالکل حرام ہے، اراکین مجلس اس پر گواہ ہیں اور یہ پورا قول وقرار ارکین مجلس کی موجودگی میں زید نے قرآن مجید اپنے ہاتھ پر رکھ کہا ہے۔ (۲)
جواب
اگر زید نے ایجاب وقبول ہونے سے پہلے اللہ کی یا قرآن کی یہ قسم کھائی تھی کہ یہ شرط پوری کرونگا، اور نہ کرنے کی صورت میں میری بیوی پر طلاق اور مجھ پر حرام، پھر شرط کے خلاف کیا ہے تو نہ بیوی حرام ہوئی ہے، نہ طلاق پڑی البتہ گنہگار ہوا ہے قسم کے خلاف کرنے سے قسم کا کفارہ ادا کرے، یعنی دس مساکین کو صبح وشام کھانا کھلائے جیسے اپنے گھر میں اکثر حالات میں کھانا تیار ہوتا ہے، یا دس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔