الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دوسری شادی کرنے پر دوسری منکوحہ کو طلاق مغلظہ کی شرط پر نکاح

سوال

مسمی غلام محمد ولد غلام رسول زرگر نے بھاگ بھری دختر محمد یار سے شادی کرنی چاہی تو اس کے والدین نے مندرجہ ذیل شرائط لکھ کر اس سے دستخط کر دائیے۔ (۱) اگر میں اس کے ساتھ نا اتفاقی کا برتاؤ کروں گا تو اس کے عوض مسماۃ مذکورہ کو ماہواری خرچہ مبلغ بلا عذر دوں گا اور مسماۃ مذکورہ کی حین حیات میں دوسری شادی کرنے پر دوسری منکوحہ کو طلاق ثلاثہ مغلظہ ہوگی۔ یہ شرائط مذکورہ میں نے اپنی خوشی کے ساتھ منظور کر لئے ہیں۔ ان میں میرا کوئی عذر نہ ہوگا۔ دستخط غلام محمد بقلم خود۔ اب طرفین میں ناچاقی ہو چکی ہے۔ دریافت طلب یہ امور ہیں (۱)

جواب

(۱) یہ لفظ کہ دوسری شادی کرنے پر دوسری منکوحہ کو طلاق ثلاثہ مغلظہ ہوگی۔ اگر محض وعدہ ہے یعنی طلاق دیدوں گا تب تو دوسری شادی سے طلاق واقع نہیں ہو گی جب تک طلاق نہیں دے گا۔ اگر یہ تعلیق ہے تو دوسری شادی سے منکوحہ ثانیہ پر طلاق مغلظہ ہو جائیگی۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو