الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حج سے پہلے اگر ہم بستری کی تو بیوی کو طلاق

سوال

ایک شخص نے شادی سے پہلے یہ قسم کھائی کہ جب تک حج نہ کرلوں گا، اس وقت تک شادی نہ کروں گا لیکن اسکے گھر والوں نے زبردستی اسکی شادی کر دی، شادی کے بعد اس نے قسم کھائی کہ جب تک میں حج نہ کروں گا جب تک میں ہم بستری نہ کروں گا، اگر میں نے ہمبستری کر لی تو اس بیوی کو طلاق ہو جائے گی، سوال یہ ہے کہ کیا ہمبستری سے طلاق ہو جائے گی۔ جب کہ حج کرنے کی مالی قوت نہیں ہے؟

جواب

حج سے پہلے شادی کرنے سے قسم کا کفارہ لازم ہو گیا، پھر شادی کے بعد حج کرنے سے پہلے ہم بستری کرنے سے قسم کا کفارہ بھی لازم ہوگا اور ایک طلاق رجعی واقع ہو جائیگی، جس میں عدت تین ماہواری گزرنے سے پہلے رجعت کا حق حاصل رہے گا قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس غریبوں کو دو وقت شکم سیر کھانا کھلائے، یا کپڑا دے، اگر اتنی استطاعت نہ ہو تو تین روزے مسلسل رکھے شادی کر لینے اور ایک دفعہ ہم بستری کر…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو