الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

اگر میں تیری عورت کی طرف دیکھوں تو میری عورت کو تین طلاق

سوال

زید نے عمر کو کہا کہ تو اگر میری عورت کو دیکھے تو تیری عورت کو طلاق، تو اس وقت عمر نے کہا کہ اگر میں تیری عورت کی طرف دیکھوں یا نظر کروں یا باتیں کروں تو میری عورت کو تین طلاق، تو اس صورت حال میں کہ عمر راستہ میں کھڑا تھا یا راستے کے اندھیرے میں بیٹھا تھا تو عمر کی نظر زید کی بیوی پر پڑ گئی تو طلاق ہو گئی یا نہیں؟ اگر ہوئی تو کتنی؟ اور طلاق کی قسم کھانا کیسا ہے؟ حالانکہ غصہ میں بغیر سوچے قسم کھائی ہے، جب کہ عمر کا ارادہ نہ تھا کہ یہ زید کی عورت کو دیکھے اور اچانک نظر پڑ گئی، امام صاحب اور امام شافعی کا مذہب کیا ہے؟

جواب

عمر نے اگر قصداً زید کی عورت کو نہیں دیکھا بلکہ بلا قصد اس پر نظر پڑی اور اس نے فوراً نظر ہٹالی تو اس کی بیوی پر کوئی طلاق نہیں ہوئی اگر قصداً اس کو دیکھا ہے تو طلاق مغلظہ ہوگئی، اب بغیر حلالہ کے تعلق زوجیت قائم کرنا درست نہیں ہے طلاق کی قسم کا یہی حکم ہے کہ شرط پائے جانے کے بعد طلاق ہو جاتی ہے، غصہ ہو یا رضا مند سب کا ایک ہی حکم ہے دل سے نیت ہو یا نہ ہو اس سے کوئی فرق واقع…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو