الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سرائے جاوے گی تو طلاق دیدوں گا

سوال

زید اور اس کی بیوی میں اس بات پر معمولی جھگڑا ہوا کہ مسماۃ ہندہ زوجہ زید اپنے باپ کے مکان سے اپنی خالہ کے گھر گئی کیونکہ زید کی رنجش ہندہ کی خالہ سے تھی دوران گفتگو میں کچھ واقعات ایسے پیش آئے کہ زید کا غصہ زیادہ بڑھ گیا جس پر زید نے کہا کہ اگر تو اب سرائے جاوے گی تو طلاق دیدوں گا، سرائے محلہ ہے، جہاں کہ ہندہ کا یعنی اس کے باپ کا مکان ہے، اور غصہ کی حالت میں زید نے بار بار یہی کہا کہ اگر تو سرائے جاوے گی تو طلاق دیدوں گا، اور یہ واقعہ مسماۃ ہندہ کے نانا کے مکان پر گذرا ہندہ نے جواب میں کہا کہ میں نہ سرائے جاؤں گی…

جواب

طلاق غصہ میں بھی واقع ہو جاتی ہے، بلکہ عامہ غصہ ہی میں دی جاتی ہے، خوشی میں کون طلاق دیا کرتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو