الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تمہاری خواہش ہو تو طلاق طلاق کا حکم

سوال

زید نے اپنی بیوی ہندہ کو یہ کہہ کر مخاطب کیا کہ اگر تم چاہتی ہو اور تمہاری خواہش ہو تو میری طرف سے طلاق طلاق دو مرتبہ کہہ کر خاموش ہو گیا، اور اس کے بعد زید نے رجوع کرلیا، ڈھائی تین ماہ بعد زید نے پھر کسی بات پر یہی کہا کہ اگر تم چاہتی ہو تو تمہاری خواہش پوری کردوں گا، مگر ذرا بچوں کو بڑا ہو جانے دو، جو تم چاہتی ہو پورا کر دوں گا، اس پر ہندہ نے جواب دیا کہ خدا مالک ہے زید نے کہا ”میں نے طلاق دی اس پر ہندہ فوراً اپنی جگہ سے اُٹھی اور ہاتھ جوڑ کر آگے بڑھی، مگر چونکہ ہندہ دس یوم کی زچہ تھی، اس لئے زید نے یہ کہہ کر…

جواب

جب زید نے پہلی مرتبہ کہا کہ اگر تم چاہتی ہو اور تمہاری خواہش ہو تو میری طرف سے طلاق طلاق، اور بیوی نے طلاق نہیں چاہی اور خواہش نہیں کی تو کوئی طلاق نہیں ہوئی ہے جب طلاق ہی نہیں ہوئی تھی تو رجوع کرنے کی بھی ضرورت نہیں تھی، پھر جب دوبارہ اس قسم کی گفتگو ہوئی تو بیوی نے کہا کہ خدا مالک ہے اس کا مطلب زید نے یہی سمجھا کہ بیوی طلاق چاہتی ہے (جیسا کہ زبانی بیان دیا ہے)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو