شوہر کی زیادتی سے بچاؤ کیلئے کسی تجربہ کار عالم کے مشورہ سے کابین نامہ
سوال
میں نے اپنی لڑکی کی شادی زید سے کر دی تھی، جب لڑکی واپس آئی تو معلوم ہوا کہ اس کو طرح طرح سے تکلیف دی گئی تقریباً پانچ ماہ تک اس کے ساتھ رہی، مگر کوئی تعلق ازدواجی قائم نہیں کیا، جب لڑکی گھر پر آئی تو یہ سب باتیں معلوم ہوئیں، اور شوہر کے یہاں جانے سے انکار کر دیا، پھر میں نے زید کو خط لکھا، تو وہ اپنی ماں کو لے کر آیا اور کہتا ہے کہ اب اچھی طرح رکھوں گا، لیکن مجھے اعتبار ہے، ایسی صورت میں فسخ نکاح کی کون سی صورت ہے؟
جواب
جب کہ شوہر رکھنے اور آباد کرنے کے لئے آمادہ ہے اور گذشتہ کوتاہی کی معافی چاہتا ہے، تو بحالت موجودہ نہ اس کو طلاق دینے پر مجبور کیا جا سکتا ہے، نہ تفریق کی جاسکتی ہے، اگر شوہر خلع پر رضامند ہو جائے یا کسی اور لالچ سے اس کو طلاق دینے پر آمادہ کر لیا جائے، یا اس کے مکان پر رخصت کرنے کے لئے شرط کر لی جائے، کہ اگر زوجہ کے حقوق ادا نہیں کئے (ہم بستری نہ کی)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔