کیا طلاق کی توکیل وتفویض سے شوہر کا حق ختم ہو جاتا ہے
سوال
شمس الدین اپنے خسر سے اس بات کا خوف کرتے ہوئے کہ مجھ سے وہ جبراً اپنی لڑکی کا طلاق لے لیں گے، تو شمس الدین نے دو آدمیوں سے کہا کہ میں اپنی بیوی کی طلاق کا معاملہ تم کو سپرد کرتا ہوں، کچھ دنوں بعد شمس الدین نے خسر کے ڈر سے کہا کہ میں بیوی کو ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق دیدیا، اب کوئی حق میرا اس پر نہیں رہا، تو کیا شمس الدین کے اختیار سپرد کرنے کے بعد یہ دی ہوئی طلاقیں واقع ہوگی، مدلل تحریر فرمائیں، عین کرم ہوگا، کیونکہ ہمارے یہاں اس مسئلہ میں عدم وقوع طلاق کا فتوی دیدیا گیا ہے اور اب بدستور میاں بیوی زندگی گزار رہے…
جواب
کسی دوسرے کو اپنی بیوی کی طلاق سونپ دینا اگر مشیت کے ساتھ مقید ہو تو یہ تملیک ایقاع ہے، جس سے زوج نفس طلاق کی ملک سے خارج ومحروم نہیں ہو جاتا، اور یہ تفویض مجلس کے ساتھ مقید رہتی ہے، بعد مجلس مفوض الیہ کا اختیار ختم ہو جاتا ہے، اگر زوج نے مشیت کے ساتھ مقید نہ کیا ہو تو یہ تو کیل ہے اور مؤکل کو عزل وکیل کا حق باقی رہتا ہے نیز تو کیل سے مؤکل کا اختیار ختم نہیں ہوتا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔