عورت کو نکاح سے الگ ہونے کا اختیار اسی مجلس تک
سوال
زید کا نکاح عرصہ چھ سال ہوا، میاں بیوی کے تعلقات بدستور رہے لیکن بعد میں زید نے اپنی بیوی کو طرح طرح سے پریشان کیا اور زدوکوب کیا، اس حالت کو دیکھ کر والدین کو بڑی پریشانی ہوئی، انہوں نے لڑکے کو کہا سنا اور بھیجنے سے انکار کر دیا، تو لڑکے نے اپنے رہن سہن کے بارے میں کچھ شرائط طے کئے کہ اس کو بھیج دو اگر ان شرائط کو پورا نہ کروں تو تمہاری لڑکی کو میری طرف سے نکاح سے علیحدہ ہونے کا پھر اختیار ہوگا، شرائط مذکورہ یہ ہیں (۱) میں اس کی مار پیٹ نہیں کروں گا، (۲)
جواب
ایسی صورت میں جب شوہر نے شرط کے خلاف کیا جب ہی اسی مجلس میں عورت کو نکاح سے علیحدہ ہونے کا اختیار حاصل ہو گیا تھا، اگر وہ مجلس ختم ہوگئی تو اختیار بھی ختم ہو گیا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔