عقد سے قبل طلاق کا اختیار
سوال
مسمی محمد نور الدین نے مسماۃ مریم بی بی سے اس شرط پر نکاح کیا کہ وہ دوسری شادی نہیں کریگا، جب تک مریم بی بی اس کے نکاح میں رہیگی، اور مریم بی بی کسی شکر رنجی کی بناء پر اگر اپنے میکہ ۹۰ ر یوم رکی رہی اور میں راضی کر کے نہ لا سکوں تو زوجیت میں رہنے کا اختیار ہے، بی بی مریم کے سپرد کر دیا، اب بی بی مریم دعوی کرتی ہے، کہ وہ ۹۰ر یوم تک اپنے شوہر سے ناراض ہو کر اپنے میکہ میں رکی رہی اور ۹۰ ر یوم مکمل ہوتے ہی اپنے نفس پر تین طلاقیں واقع کر دیں، واضح رہے کہ شوہر نے دوسری شادی نہیں کی، اس پر جے نگر مدرسہ کے مفتی صاحب نے…
جواب
سوال میں ہے کہ مریم بی بی سے اس شرط پر نکاح کیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ شرط پہلے تجویز کی گئی، اور نکاح بعد میں ہوا، اگر واقعہ اسی طرح ہے تو یہ شرط بالکل لغو اور بیکار ہے، اگر صاف صاف طلاق کا اختیار عورت کو دیتا تب بھی اس کو اختیار طلاق حاصل نہ ہوتا، طلاق منجز ہو یا معلق ہو اس کا محل زوجہ ہے، قبل نکاح وہ زوجہ ہی نہیں، لہذا وہ محل طلاق ہی نہیں، اگر سبب ملک (نکاح)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔