طلاق کا اختیار دوسرے کو دے کر واپس لینا
سوال
زید نے عمر کو اپنے اختیارات طلاق دیدیئے مگر اب وہ اپنے حالات سے سرگرداں وپریشان ہو کر اپنے اختیارات کو واپس لینا چاہتا ہے۔ (۱) کیا اس کو یہ اختیار ہے کہ اپنے جو اختیارات عمر کو دیئے تھے، انکو وہ واپس لے لے۔ (۲) اگر ہے تو پھر اس کا کیا طریقہ ہے۔ (۳) اگر عمر واپسی اختیارات پر رضامند نہ ہو تو زید کو کیا عمل کرنا چاہئے؟
جواب
(۱) یہ تو کیل ہے، موکل کو اختیار رہتا ہے کہ وہ وکیل کو معزول کر دے، اس سے اس کے اختیارات ختم ہو جائیں گے، اس کے لئے وکیل کی رضامندی ضروری نہیں ہے، زید جب عمر سے کہہ دے گا کہ میں نے آپ کو وکالت سے معزول کر دیا، اب آپ کو اختیار نہیں کہ میری بیوی کو طلاق دیں، تو عمر کا اختیار ختم ہو جائے گا، پھر اگر عمر طلاق دے تو زید کی بیوی پر واقع نہ ہوگی: لا يملك الزوج الرجوع عن التفويض سواء…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔