الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

آخری فیصلہ کر دیا کا حکم

سوال

زید کا بیوی کے ساتھ جھگڑا ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ زید کی بیوی اپنے میکے میں چلی گئی عورت کے لواحقین نے شوہر کو کہلا بھیجا کہ اگر زید اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو تو کل کیا دینا، آج دیدے اس کہنے پر زید نے سخت غیظ وغضب میں کہلا بھیجا کہ ایسی بیوی میرے کوئی کام کی نہیں اور اس قسم کی بہت سی باتیں جھگڑے کی ہوئیں اور معاملہ الجھن میں پڑ گیا، تاہم زید کے احباء نے اس کو سمجھانے کی کوشش کی، اور اس کا غصہ فرو کرنے کی تدبیر کیں لیکن غصہ بجائے کم ہونے کے اور بھڑکتا گیا، اور یہاں تک لکھ دیا کہ میں کسی طرح بھی اس…

جواب

اس تمام بیان میں زید کی جانب سے طلاق کا صریح لفظ کوئی نقل نہیں کیا گیا اگر زید نے قاضی سے یہ کہا ہے کہ طلاق نامہ میری زوجہ کے لئے لکھ دو تو شرعاً طلاق واقع ہو گئی اگر چہ تحریری طلاق نامہ کی نوبت نہ آئی ہو: ولو قال للكاتب اكتب طلاق امرأتي كان اقرارًا بالطلاق وان لم يكتب ا ه (در مختار ج: ۲، ص: (۴۶۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو