صریح وکنایہ جیسے میرا ان کا فیصلہ ہو چکا ایک دو تین کا حکم
سوال
بعد سلام مسنون آنکہ میرا نکاح مطابق شرع شریف ہمراہ مسماۃ خاتون دختر شیخ عبد الغنی سے عرصہ تقریباً سات آٹھ سال ہوئے ہوا تھا اور اس وقت سے وہ آج تک بطور زوجہ میرے گھر میں آباد رہی بوجہ باہمی نفاق کے ودیگر معاملات بد سے بدتر ہو کر زہر خورانی وایک دوسرے کے مارنے تک پہنچ گئے، پنچایت ہو کر میری سسرال والوں کا میرے گھر اور میرا ان کے گھر جانا بند ہو گیا، لیکن میری بیوی میرے پاس رہی، اب کل بوقت شب میری عدم موجودگی میں میری اہلیہ بلا اجازت میری اپنے تایا زاد بھائی کے گھر کا بہانہ کر کے اپنے والدین کے گھر پہنچی اتفاق سے میں…
جواب
تمام عبارت سوال میں ایک جگہ تو لفظ طلاق صراحہ مذکور ہے کہ ایسی عورتوں کو میری طرف سے طلاق ہے کہ جو میرے کہنے کے خلاف عمل کریں، شوہر کے کہنے کے خلاف کرنے سے شرعاً اس لفظ سے ایک طلاق رجعی واقع ہو جاتی ہے، بشرطیکہ اس سے تین طلاق کی نیت نہ کی ہو اس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے اندر شوہر کو رجعت کا اختیار حاصل رہتا ہے اور بعد عدت طرفین کی رضا مندی سے نکاح درست ہوتا ہے دوسرا لفظ اپنے اپنے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔