الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کاغذ کو پڑھے بغیر دستخط کرنے سے طلاق کا حکم

سوال

میری سالی اور ان کے رشتہ داروں میں جھگڑا ہو گیا تھا، جھگڑا ہونے کی بنا پر میں گھر چھوڑ کر الگ ہو گیا، اور میری بیوی میری سسرال میں تھی، میری بیوی اور مجھ میں کسی قسم کی کوئی بات نہیں ہوئی، جھگڑے کے تیسرے دن سالی کا جیٹھ میرے پاس پر چہ لیکر آیا، اور مجھ سے کہا کہ اس پر دستخط کر دو، اس وقت میں غصہ میں تھا، اسے دیکھ کر مجھے اور بھی غصہ آگیا، اور میں نے دستخط کر دیئے، پھر بعد میں اس نے پڑھ کر سنایا، اس پرچہ میں میری بیوی نے یہ لکھا تھا کہ میں نے اپنی خوشی سے مہر بخش دیئے اس پرچہ میں طلاق کا کوئی نام نہیں تھا، اور میری…

جواب

جب کہ آپ نے زبان سے طلاق نہیں دی، اور پرچہ میں بھی طلاق کا ذکر نہیں تو پر چہ پر دستخط کرنے سے کوئی طلاق نہیں ہوئی، اگر پرچہ میں طلاق کا ذکر ہوتا اور اس کو پڑھ کر یا سن کر دستخط کرتے تب طلاق ہوتی ہے بغیر پڑھے اور بغیر سنے لاعلمی میں دستخط کر دیئے، تب بھی طلاق نہ ہوئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو