الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تتمه تحریر متعلقله تحریر / طلاق بحالت غصہ

سوال

میں سو رہا تھا کہ مجھے کسی نے جگایا مگر مجھے معلوم نہیں ہوا کہ کس نے جگایا، کیوں کہ میں غفلت کی نیند میں تھا، میری عورت کی چار پائی میرے برابر تھی، میں نے جو اس کی چار پائی دیکھی عورت موجود نہ تھی، میں نے ماچس جلا کر دیکھا تو سب دراوزے باہر جانے کے بند ہیں یعنی کنڈیاں لگی ہوئی ہیں یہ دیکھ کر مارے غصہ کی آگ ہو گیا، دوسری ماچس جلائی تو میری عورت نے دریافت کیا کہ کیوں گھبرا رہے ہو، کیا بات ہے کیونکہ میری غصہ کی آگ بھڑک رہی تھی، میں نے کہہ دیا کہ جا تجھے طلاق ہے، غصہ میں یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ کتنی مرتبہ لفظ طلاق…

جواب

معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص پر طلاق دیتے وقت نیند کا غلبہ اس قدر نہ تھا کہ بے اختیار اور بے علم اس کی زبان سے طلاق کے الفاظ نکل گئے، البتہ عورت پر شک ہونے کی وجہ سے غصہ میں آکر طلاق دے دی، پس اگر غصہ کی وجہ سے حواس معطل ہو کر مجنون کی طرح عقل بھی زائل ہو چکی تھی اور یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کیا کہہ رہا ہے تو یہ شخص مجنون کے حکم میں ہے، مگر ساتھ ہی اس کے دوسرے افعال بتلا رہے ہیں کہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو