الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غصہ کی حالت میں طلاق

سوال

خاوند بیوی میں خانگی معاملات میں تکرار ہوا، عورت نے غصہ میں کہا کہ تم مجھ کو جواب دیدو خاوند نے کہا کہ جا میری طرف سے جواب ہے، جب خاوند نے یہ کہا عورت نے کہا کہ اپنے بھائی کو بلا لو اتنے میں بھائی بھی آگیا اس کے آنے پر عورت نے کہا کہ اب طلاق دو، خاوند نے اس کے کہنے پر غصہ میں کہا جا میری طرف سے طلاق ہے، چوں کہ عورت کے کوئی رشتہ دار نہیں، لہذا خاوند کے گھر ہے اور نہ اس کا خاوند جانے پر آمادہ ہے، عورت کو تین ماہ کا حمل ہے، یہ گفتگو بحالت غصہ ہوئی اب اس کے متعلق کیا حکم ہے۔ غصہ میں طلاق دینا

جواب

صورت مسئولہ میں دو طلاق واقع ہو گئیں، اول بائن کنایه، دوم بائن صريح: الصريح يلحق الصريح ويلحق البائن بشرط العدة درمختار وفى الشامي واذا لحق الصريح البائن كان بائناً لان البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة ج: ۲، ص: ۴۶۹، لہذا طرفين کی رضا مندی سے دوبارہ نکاح کرنا کافی ہے، حلالہ کی ضرورت نہیں، طلاق غصہ میں بھی ہو جاتی ہے، اگر ۳ مرتبہ طلاق دی ہے، تو بغیر حلالہ نکاح میں اس عورت کا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو