غصہ میں طلاق
سوال
آج میری عورت نے میرے حکم کے خلاف کیا جس کی وجہ سے میں اس کو تنبیہ کرنا چاہتا تھا، اور غصہ زیادہ بڑھ گیا تھا لیکن مجھ کو میرے لڑکوں نے پکڑ لیا اور ان سے باوجود کوشش کے چھوٹ نہ سکا، جس سے زیادہ غیظ بڑھ گیا، اور ممکن تھا کہ اس پر کوئی سخت حملہ کیا جاتا، عورت مذکورہ بد زبانی اس حالت میں کرتی رہی، اس وقت سوائے میری زبان کے قابو میں ہونے کے کچھ نہیں تھا، میں نے اس کو تین مرتبہ کہا کہ میں نے تم کو طلاق دیا، اور ہر مرتبہ کم وبیش ۵ منٹ کا وقفہ دیتا رہا اس سے پہلے میرا قصد نہیں تھا، میں نہیں کہہ سکتا کہ اس وقت میرا قصد طلاق…
جواب
صورت مسئولہ میں شرعاً تین طلاق واقع ہو کر مغلظہ ہوگئی، اب بغیر حلالہ کے اس کو رکھنا درست نہیں، طلاق جس طرح رضامندی کی حالت میں ہوتی ہے، غصہ کی حالت میں بھی واقع ہو جاتی ہے، الفاظ مذکورہ بالا بلا قصد کہنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے: يقع طلاق كل زوج اذا كان بالغاً عاقلاً سواء كان حراً أو عبداً طائعا او مكرهاً وطلاق اللاعب والهازل به واقع وكذلك لو اراد ان يتكلم بكلام فسبق لسانه…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔