بے اختیار لفظ طلاق زبان سے نکل گیا
سوال
اگر کوئی شخص اِدھر اُدھر کی خیالی باتیں کر رہا ہو، اور اس میں اپنی بیوی کو طلاق بھی دیدیا اور اسے مطلق کچھ خیال نہ ہو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اسکا کیا اثر پڑے گا، کہنے کے بعد خیال آیا تو کیا طلاق ہوگئی یا نہیں؟ حلالہ کرنے کے بعد مہر قدیم کافی ہے یا پہلے والا مہر ختم ہو جائے گا اور پھر مہر جدید متعین کرنا پڑے گا۔ جواب سے مطلع فرمائیں۔
جواب
اگر کہنا کچھ اور چاہتا تھا، مگر زبان لڑکھڑا گئی اور زبان سے لفظ طلاق نکل گیا تو دیانہ طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن قضاء طلاق کا حکم ہوگا، یعنی اگر معاملہ عدالت میں یا شرعی پنچایت میں پہنچ جائے اور وہ کہے کہ میں لفظ طلاق نہیں کہنا چاہتا تھا بلکہ فلاں لفظ کہنا چاہتا تھا بے اختیار زبان سے لفظ طلاق نکل گیا تو اس کا قول معتبر نہیں مانا جائے گا، بلکہ طلاق کا حکم کر دیا جائیگا عورت نے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔