دل میں طلاق کی نیت کرنے سے طلاق کا حکم
سوال
زید ایک گناہ میں مبتلا ہے، اس نے اس گناہ کو چھوڑنے کی بہت کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا، اس نے یہ سوچ کر کہ یہ گناہ اس طرح چھوٹ جائے گا، یہ شرط اپنے دل میں لگائی کہ اگر میں دوبارہ اس گناہ کو کروں گا، تو میری گھر والی کو طلاق، یہ دل میں طے کر لیا، یہ تشریح نہیں کی کہ طلاق بائنہ یا رجعی یا مغلظہ؟ اب پھر زید سے وہ گناہ ہو گیا، تو کیا اس طرح طلاق واقع ہو جائے گی۔
جواب
اگر صرف دل میں طے کیا تھا، زبان سے نہیں کہا، تو کوئی طلاق نہیں ہوئی، اگر زبان سے بھی کہہ دیا تھا تو ایک طلاق رجعی ہوگی، پھر اگر تین ماہواری گذرنے سے پہلے تعلق زوجیت قائم کر لیا تو رجعت بھی ہوگئی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔