الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تقاطر بول کا حکم !

سوال

بندہ کو مسلسل چھ سال سے تقاطر بول کی شکایت ہے اکثر تو پیشاب کرنے کے فوراً بعد یا کچھ دیر بعد یا تو کبھی نماز کے اندر یا وضو کرنے کے وقت پیشاب کے قطرے نکل آتے ہیں اب جب نماز میں یہ حالت پیش آتی ہے تو بندہ وضوء کے لئے جائے گا تو ادھر جماعت ختم ہو جاتی ہے تو اس صورت میں بندہ کیا کرے کبھی پیشاب کی تعداد اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ درہم کی تعداد سے زیادہ، بندہ کو بھی عین درس کی حالت میں یہ بیماری پیش آتی ہے اور درس کے وقت میں وضوء کا ہونا ضروری ہے اگر بندہ وضوء کیلئے جائے گا تو سبق فوت ہو جائے گا بندہ اس صورت میں کیا کرے…

جواب

جب آپ صاحب عذر (شرعی معذور) نہیں ہیں تو جو نمازیں قطرے آنے کی حالت میں یا قطرے آنے کے بعد بغیر وضو کئے ناپاک کپڑے سے (جبکہ مقدار عفو سے زائد ہو) پڑھی ہوں ان سب کا اعادہ ضروری ہے قطرہ آنا آپ کے حق میں ناقض وضو ہے قطرہ کیلئے مستقل کپڑا رکھیں نماز کے وقت اس کو الگ کر دیا کریں یا نماز کیلئے مستقل لنگی رکھیں اگر اتفاقاً وہ ناپاک ہو جائے تو پاک کر لیں سبق کیلئے پاک رہنا ضروری نہیں،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو